حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی نے خطے کے بعض ممالک میں علما کو قید اور سزائے موت کے احکامات سنائے جانے کے بعد ایک پیغام جاری کیا ہے۔ ان کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے ایام کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتا ہوں۔
«عُلَماءُ شِیعَتِنا مُرابِطونَ بِالثَّغْرِ الَّذی یَلی إِبْلیسَ وَعَفاریتَهُ، یَمنَعونَهُم عَنِ الخُروجِ عَلی ضُعَفاءِ شِیعَتِنا، وَعَن أَنْ یَتَسَلَّطَ عَلَیهِم إِبْلیسُ وَشِیعَتُهُ النَّواصِبُ»؛ ہمارے شیعہ علما اس محاذ پر مورچہ زن ہیں جو ابلیس اور اس کے سرکش ساتھیوں کے مقابل ہے۔ وہ ابلیس اور اس کے پیروکاروں کو ہمارے کمزور شیعوں پر حملہ کرنے اور ان پر تسلط جمانے سے روکتے ہیں۔
یہ نورانی فرمان لوگوں کے ایمان کی حفاظت اور باطل کے محاذ کے مقابل استقامت میں علما کے اہم اور حساس مقام کی یاد دہانی کراتا ہے۔ علما کی ذمہ داری حق کا دفاع، ظلم و ستم کا مقابلہ اور اعتقادی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اسی بنا پر جہاں کہیں ظلم ہو، علما کی آواز بلند ہونی چاہیے اور ان علما پر ہر قسم کی زیادتی قابلِ مذمت ہے جو دینی عقائد اور اپنی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
حال ہی میں خطے کے بعض ممالک کے حکمرانوں نے حق اور انصاف کی آواز کو دبانے کے لیے علما کے خلاف ظالمانہ فیصلے جاری کیے ہیں جن میں قید اور سزائے موت کے احکامات بھی شامل ہیں۔ اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ اس طرح کے فیصلے نہ صرف حق اور انصاف کی آواز کو خاموش نہیں کر سکیں گے بلکہ ان کے اجرا کرنے والوں کے زوال اور بے اعتباری کی راہ بھی ہموار کریں گے۔
ان ممالک کے حکمرانوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ ان غیر دانشمندانہ اقدامات سے باز آجائیں اور علما سے مقابلہ کرنے کے بجائے استکبار اور صیہونیت کے خلاف جدوجہد میں ان کے ساتھ ہم آواز ہوں کیونکہ استکبار اور صیہونیت اسلام کی اصل بنیاد کو مٹانے کے درپے ہیں۔
ہم بارگاہِ خداوند متعال میں اسلام کی عزت و سربلندی، مظلوم علما کی نصرت اور انہیں ظالموں کی قید سے رہائی عطا فرمانے کی دعا کرتے ہیں۔
28 اکتوبر 2026ء
حسین نوری ہمدانی










آپ کا تبصرہ